آپ کے اثاثے اور قرضے
اپنی زکاۃ کا حساب لگانے کے لیے اپنی بچت، سونا اور سرمایہ کاری درج کریں۔
اپنی زکاۃ کا حساب کیسے لگائیں
مرحلہ 1: اپنی نقدی اور بچت درج کریں
تمام نقدی اور بینک اکاؤنٹ بیلنس ریال میں درج کریں۔
مرحلہ 2: سونا اور چاندی درج کریں
اپنے سونے اور چاندی کا وزن گرام میں درج کریں۔
مرحلہ 3: سرمایہ کاری اور قرضے درج کریں
اپنی سرمایہ کاری پورٹ فولیو کی قیمت اور فوری قرضے درج کریں۔
مرحلہ 4: نصاب کی حیثیت اور زکاۃ دیکھیں
دیکھیں کہ آیا آپ کی خالص دولت نصاب کی حد سے تجاوز کرتی ہے۔
مرحلہ 5: اثاثوں کی تفصیل کا جائزہ لیں
ہر اثاثہ زمرے کی تفصیلی خرابی دیکھیں۔
زکاۃ کے حساب کو سمجھنا
زکاۃ کا حساب ان اصولوں پر کیا جاتا ہے: 1. نصاب: کم از کم حد = 85 گرام سونا۔ 2. زکاۃ کی شرح: خالص دولت کا 2.5% 3. شامل اثاثے: نقدی، سونا، چاندی، سرمایہ کاری۔ 4. خارج اثاثے: ذاتی رہائش، گاڑیاں۔ 5. قرضے کٹوتی: قلیل مدتی قرضے۔
مثال کا حساب
نقد بچت: 50,000 ریال سونا: 50g × 300 = 15,000 ریال سرمایہ کاری: 20,000 ریال کل: 85,000 ریال قرضے: -5,000 ریال خالص دولت: 80,000 ریال نصاب: 85 × 300 = 25,500 ریال زکاۃ: 80,000 × 2.5% = 2,000 ریال
زکاۃ کے بارے میں اکثر پوچھے گئے سوالات
نصاب کی حد کیا ہے؟
کیا میں سونے اور چاندی پر زکاۃ دیتا ہوں؟
کیا میں سرمایہ کاری پر زکاۃ دیتا ہوں؟
کیا میں زکاۃ سے پہلے قرضے کاٹ سکتا ہوں؟
مجھے زکاۃ کب ادا کرنی چاہیے؟
سونے کی موجودہ قیمت کیا ہے؟
کیا ذاتی اثاثے زکاۃ کے تابع ہیں؟
متعلقہ فنانس اور بینکنگ ٹولز
یہ کیلکولیٹر تخمینے فراہم کرتا ہے۔ حتمی رہنمائی کے لیے کسی مستند اسلامی عالم سے مشورہ کریں۔
Last updated: July 2026 · Based on Islamic Zakat rules and Saudi gold prices